Sharing is caring!

History of Tanoli & Abbasi

تنولی و عباسی تاریخ

عباسی قبیلہ پونچھ اورعباسی قبیلہ کو ہمری و ہزارہ کےاسلاف کب اور کس زمانے میں اس طرف اۓ اور انہوں نے تاریخ کے کیا کیا نشیب و فراز دیکھے اس بارے میں کتاب تاریخ اقوام پونچھ میں کافی تحقیقی وضاحت کی ہے اور بتایا ہے
پونچھ اور راولپنڈی کے ان عباسی قریشیوں کا جو ڈھونڈ کہلاتے ہیں نسبی تعلق صاحب آئینہ قریش نے عادل کی ساتویں پشت کے اہک نامور قریشی سے ملایا ہے۔ عادل کا نسب نامہ اس طرح ہے۔ عادل بن تاخت بن سعید بن عبداللہ بن محمد بن عباس۔

صاحب آئینہ قریشی لکھتے ہیں کہ خرؔاب خاں ہرات سے کشمیر اۓ۔ وہاں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد علاق راوالپنڈی کے ایک موضع دراں کوٹ میں جو کہوٹہ کے قریب ہے آباد ہو گۓ۔ عباسی قبیلہ کی راویات میں ہے کہ جب خرؔاب خاں تحصیل کہوٹہ کے اس گاؤں میں آۓ تو ان کا بیٹا گاہی خان بھی ساتھ تھا۔ جب انہوں نے اس ویران جنگل کو صاف کر کے یہاں رہاںٔش رکھی تو یہاں اپنی حفاظت کے لیٔے ایک قلعہ نما مکان تعمیر کرایا جسے اس زمانے میں کوٹ کہتے تھے۔ یہ کافی عرصے تک خرؔاب خاں کوٹ کے نام سے مشہور رہی۔ مگر بالاخر زبانوں پر چڑھتے چڑھتے اس کا نام راب کوٹ ہو گیا اور اب موجودہ   وقت اس کودراں کوٹ کہتے ہیں۔

لیکن ایک دوسری روایت میں ہے کہ خرؔاب خاں اس مقام پر آباد ہوۓ تو اس مقام پر ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہواجس کا نام گاہی خاں رکھا گیا اور اس کے کثیر اولاد ہونے کی بشارت ایک بزرگ نے دی، گاہی خان کے ہاں کھوندر خان- تنولی خان-سراڑہ-ہسس-ولہوس-باراں ہزاریا-سالال -کول-آگر-حاکم-موسم نامی بارہ فرزند پیدا ہوںٔے اور انہی بارہ فرزندوں کی شاخیں راولپنڈی کی تحصیل مری- ضلع ہزارہ- تحصیل باغ کے غربی حصہ میں آباد ہیں- آںٔینہ قریش کے مصنف نے کھوندر خان کا شجرہ نسب 17 پشتوں بعد حضرت عباسؓ سے ملایا ہے۔ کھوندر خان کی چھٹی پشت سے ڈھونڈ خان نامی ایک سردار پیدا ہوا جس کی شاخ کے تمام افراد اس وقت پونچھ کی تحصیل باغ اور راسلپنڈی کے علاقہ کوہمری اور ضلع ہزارہ کے کٔی دیہات میں آباد ہیں۔

دھونڈ قبیلہ جس نے بڑے بڑے نامور فرزند پیدا کۓ ہیں اسی ڈھونڈ خان کے نام سے موسوم ہے۔ اور اس کے باوجود کہ ڈھونڈ خان قریشی الاصل تھااس کی شاخیں غریب الوطنی کے باعث اپنے اپنے اصل حالات تحقیق نہ کر سکیں۔

تنولی خان جس کے نام سے ہزارہ کی تنولی برادری موسوم ہے اور سراڑہ خان جس کے نام سے اسی علاقہ میں لاکھوں لوگ موسم ہیں گاہی خان کے فرزند بتاںٔے جاتے ہیں۔ ڈھونڈ خان کی آٹھویں پشت سے تولک خان نامی ایک پزرگ کزرے ہیں جن کے دو فرزند رتن خان اور چند خان تھے- ان دونوں بزرگوں کے مزارات چمن کوٹ میں سڑک کے متصل ہیں۔ اور انہی کے ناموں سے موسوم ہو کر چندال اور رتنال کہلاتی ہے۔

منقول: تاریخِ  پونچھ  ,صفہ نمبر277- 278 سن منقول​اشاعت  1955 

تنولی ایک قبیلہ ہے جس کا تعلق ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی تناول سے ہے۔ تاریخ داں تنولی سلسلہ کوحضرتؓ عباس بن عبد المطلب سے جوڑتے ہیں۔ تنولی قبیلے کے بیشتر افراد خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن میں واقع سابقہ امب ریاست میں رہتے تھے۔ ایبٹ آباد ، کھلابٹ ٹاؤن شپ ، ہری پور اور اس کے اضلاع مانسہرہ ، بٹگرام اور کوہستان وغیرہ اس ریاست کے حصے تھے۔ تنولی قبیلے کی ایک شاخ کشمیر میں بھی آباد تھی ، خاص طور پر مظفرآباد اور سری نگر میں۔ اس کے علاوہ موجودہ وقت میں تنولی قوم کے افراد پورے ملک میں آباد ہیں۔ خوصوصاََ ملک کے بڑے شہروں کوئٹہ ، لاہور اور کراچی۔ تنولی قوم نے تانوال شیروان بیلٹ پر غلبہ حاصل کیا۔

تنولی کی تاریخ۔

افغانستان میں ، تنولی بنیادی طور پر مشرقی صوبوں پکتیا ، گردیز ، اور غزنی میں رہتے ہیں۔ یہ لفظ تانوال افغانستان کے درہ تنول سے ماخوذ بھی بتایا جاتا ہے۔ تنولی قوم نے انگریزوں کے ساتھ سرحدی جنگوں میں حصہ لیا اور چارلس ایلن نے اپنے جنگی تجزیے کی بنیاد پر “انتہائی پرجوش” “بہادر سخت جان اور” بہترین جنگجو “قرار دیا ہے۔

Tanawal