Sharing is caring!

Pakistan's Top Tourist Attractions Points

Background of Hazara Division

ہزارہ ڈویژن کا پس منظر

وطن عزیز میں صوبہ خیبر پختون خواہ جس کا پرانا نام (صوبہ سرحد)تھا میں ہزارہ ڈویژن۔ ہزارہ کا پرانا نام کارلخ ہزارہ تھا۔ کارلخ ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب 1 ہزار ہے۔ 1000 کے قریب قریب ترک فوجیوں نے اس پر حملہ کیا اور اس علاقے پر اپنا قبضہ جما کر اس کا نام کارلخ ہزارہ رکھ دیا۔جس کو بعد ازاں کارلخ کو حذف کر کے ہزارہ رکھ دیا گیا۔

قارئین ہزارہ ڈویژن کے تین اضلاع قدیم ہیں جن میں مانسہرہ سب سے قدیم ترین ضلع ہے۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں قدیم ترین مذہبی تہذیبیں گزری ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 1321 میں مانسہرہ کا پرانا نام پکھلی سرکر تھا اس علاقہ کو مان سنگھ نے آباد کر کے اس کا نیا نام اپنے نام سے منسوب کر کے مانسہرہ رکھ دیا۔ ہری پور کا پرانا نام مشرقی گندھارہ تھا۔ مہاراجہ سکندر یونانی کی فوج کے جرنیل ہری سنگھ نلواہ نے 1821 اس علاقے کو آباد کرکے اس علاقے کا نام اپنے نام سے منسوب کرکے ہری پور رکھ دیا۔ 1846 میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان معاہدہ کے بعد کشمیر اور ہزارہ کا علاقہ راجہ گلاب سنگ کے حوالے کر دیا اور 1849 میں پورا علاقہ برطانوی راج میں۔ ضلع ایبٹ آباد کا قیام 1853 میں برطانوی میجر جیمز ایبٹ نے ایبٹ آباد کو آباد کر کے اس کا نام ایبٹ آباد رکھا۔ موجودہ وقت میں ہزارہ ڈویژن کے 7 اضلاح جن میں ہری پور۔ ایبٹ آباد۔ کوہستان۔ لوئر کوہستان۔ مانسہرہ۔ بٹگرام۔ تورغر شامل ہیں۔ ہزارہ ڈویژن جوکہ سات اضلاع پر مشتمل ہے 2017 کی مردم شماری کے مطابق ہزارہ ڈویژن کی ٹوٹل آبادی 5049660 ہے۔ ہزارہ ڈویژن کا ہر ضلع قدرتی حسین مناظر سے بھرا ہوا ہے جو کے پوری دنیا میں حسین مناظر کی لسٹ میں منفرد شہرت کے حامل ہیں۔ ہزارہ ڈویژن کو خوبصورتی کے لحاظ سے جنت کا ٹکڑا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ہزارہ ڈویژن کے چار موسم۔ موسم سرما موسم گرما موسم خزاں موسم بہار تازہ آب و ہوا سمیت ہزارہ ڈویژن میں قدرتی مناظر گھنے جنگلات قدرتی چشمے لہلہاتی فصلیں شفاف نہریں قدرتی خوبصورتی کو دیکھ کر اللہ تعالی کی عظمت اور بڑھائی کو سجدہ گو ہونے کو دل کرتا ہے ۔ہزارہ ڈویژن کے ہری پور۔ ایبٹ آباد۔ کوہستان۔ لوئر کوہستان۔ مانسہرہ۔ بٹگرام۔ تورغر۔ میں بسنے والے لوگ مہمان نواز کہلائے ہیں۔ ہزارہ ڈویژن میں زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں (پشتو اردو ہندکو گوجری کوہستانی) ہیں۔ ہزارہ ڈویژن میں زیادہ تر پہنے جانے والا لباس شلوار قمیض ہے۔ اس علاقے کی خواتین پردہ کے لئے زیادہ تر (برقع عبایا۔ چادر ) کا استعمال کرتی ہیں۔ ہزارہ ڈویژن میں زیادہ تر جائنٹ فیملی سسٹم ہے۔ یہاں زیادہ گھر دو منزلہ اور وسیع ہوتے ہیں۔ اس علاقہ لوگوں کا مشغلہ زیادہ تر کاشتکاری پالتو جانور ہے۔ یہاں کے لوگ کھیلوں کے لیے زیادہ تر مرغ کبوتر نیزہ بازی کے لئے گھوڑوں۔ لیک کیلئے بیلوں اور اعلی نسل کے کتے پالنے کا شوق رکھتے ہیں۔ اس علاقہ میں ایسے شوقین بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنے شوق کے طورپر چڑیاگھر گھروں میں بنائے ہوئے ہیں۔ جن میں شترمرغ آسٹریلین طوطے مکاؤ طوطے مور اعلی نسل کی مرغیاں بطخیں غیرہ شامل ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں اس علاقہ کے لوگوں کا شغل ڈھولک کی تھاپ پر علاقائی رقص کرنا ہے۔ یہاں کے لوگ سیروسیاحت کے بھی بہت شوقین ہیں یہاں کے لوگوں کی زیادہ تر پسندیدہ خوراک گندم اور مکئی کی روٹی سرسوں کا ساگ لسی ہاتھ سے بنی چٹنی چاول خاص سوغات میں گھریلو دیسی گی مکھن دیسی انڈے شامل ہیں۔ ہزارہ ڈویژن پوری دنیا میں سیر و تفریح اور موسم کے لحاظ سے سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز جانا جاتا ہے۔ ہزارہ ڈویژن میں قدرتی مناظر آثار قدیمہ کو دیکھنے کے لیے ملک بھر سے آنے والے سیاحوں سمیت غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں اللہ تعالی کی قدرت کے ایسے شاہ کار موجود ہیں جن جو کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہزارہ ڈویژن میں بہنے والے دریاؤں میں دریائے جہلم دریائے کنہار دریائے سندھ دریائے سرن شامل ہیں جن سے ہزاروں لوگوں کا مایگیری کا روزگار وابستہ ہے۔ اللہ تعالی نے ہزارہ ڈویژن کو مختلف معدنیات سے بھی نوازا ہے ان معدنیات میں گرینائٹ جپسم فاسٹ ماربل سمیت دیگر قیمتی پتھروں کے بڑے بڑے پہاڑ موجود ہیں گرینائٹ پتھر ان قیمتی پتھروں میں شمار ہوتا ہے جس کی مالیت 3 سو روپے فٹ ہے۔ ہزارہ ڈویژن میں ایبٹ آباد اور ہری پور کا شمار بھی قدیم شہروں میں ہوتا ہے جو سینکڑوں سال پہلے آباد ہوئے۔

Hazara Division's Famous Places around the world

ہزارہ ڈویژن کے دنیا بھر میں مقبول مقامات

ہزارہ ڈویژن میں ایشیا کے بڑے ڈیموں میں شامل تربیلا ڈیم۔ دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی حسین مناظر سے بھرپور سیروسیاحت کا مقام وادی کاغان ہزارہ ڈویژن میں ہیں جو کہ عالمی شہرت کا مقام رکھتا ہے۔ ایشیا کا سب سے بڑا شمار ہونے والا مینٹل اینڈ جنرل ہسپتال بھی ہزراہ ڈویژن میں واقع تھا۔ جس کو ختم کر دیے گیا ہے۔ مختلف تہذیبوں کے آثار قدیمہ ہزارہ ڈویژن میں آج بھی موجود ہیں۔ جو کہ دنیا بھر کی تہذیبوں کے لوگوں کے لئے توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔

Information of Terbela Dam

تربیلا ڈیم کی معلومات

ایشیاء کے بڑے ڈیموں میں شمار تربیلا ڈیم بھی پاکستان میں صوبہ خیبر پختون خواہ کے ہزارہ ڈویژن میں تربیلا کے مقام پر واقع ہے۔ اس ڈیم کا سٹرکچر والیم 153 ملین میٹرکیوب ہے اس کی اونچائی 143 میٹر اور لمبائی 2743 میٹر ہے اس ڈیم کی تعمیر 1968 سے 1976 میں مکمل ہوئی جو کہ دریائے سندھ پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس ڈیم پر پاور سٹیشن میں 175 میگاواٹ کے 10 اور 423 میگاواٹ کے 4 ٹربائن لگائے گئے ہیں جو کہ تقریبا 6200 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس ڈیم کا زیادہ تر پانی تربیلا جھیل میں جمع کیا جاتا ہے جو کہ علاقہ تناول دربند کے مقام سے شروع ہوتی ہے۔

Information on the Karakoram Highway

شاہراہ قراقرم کی معلومات

دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم بھی ہزارہ ڈویژن سے گزرتی ہے۔ 1300 کلومیٹر طویل یہ سڑک جس کی تعمیر کا کام پاکستان نے پڑوسی ملک چین کے ساتھ 1966 میں معاہدے کے بعد شروع کیا اس شاہراہ کی تعمیر میں 15000 پاکستانی اور 9500 چائنہ کے مزدوروں اور انجینئںرز نے حصہ لیا اس طویل سڑک کی تعمیر کے لیے بھاری مشینری کو پہاڑوں کی چٹانوں پر پہنچانے کے لیے پاک فضائیہ کی بھی مدد لی گئی۔ اس سڑک کی تعمیر میں 408 مزدور جاں بحق 314 شدید زخمی ہوئے جبکہ معمولی زخمی ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس شاہراہ پر آپ کا سفر قدرتی حسین مناظر بلند و بالا پہاڑوں دنیا کی چند بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیاں مچلتے دریائے سندھ کے درمیان سے سفر ہو گا۔ اس طویل شاہراہ پر 24 بڑے پل 70 چھوٹے پل اور 1708 سے زائد آبی گذر گاہیں ہیں۔ اس شاہراہ کی تعمیر میں 80 ملین کلو سیمنٹ استعمال ہوا۔ شاہراہ قراقرم دو ملکوں پاکستان اور چائنہ سمیت دو صوبوں صوبہ پنجاب اور صوبہ گلگت بلتستان کو زمینی راستے سے آپس میں ملاتی ہے اور دنیا کے بڑے پہاڑی سلسلوں میں شمار ہونے والے کوہ ہمالیہ کوہ ہندوکش کوہ بریرہ کے سفر کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کی دفاعی معیشتی اور تجارتی شاہراہ ہے۔ یہ شاہراہ صوبہ پنجاب کے شہر حسن ابدال ٹیپو سلطان شہید چوک سے شروع ہو کر گلگت بلتستان کے مقام درا حنجراب پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ جو کہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہلاتی ہے۔

Play Video

Kaghan Valley

وادی کاغان

سکردو سے 70 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے.. سوئٹزرلینڈ سے بھی زیادہ خوبصورت جگہ ہے
Play Video

ہزارہ ڈویژن میں وادی کاغان وہ مقام ہے جہاں پر گرمیوں میں سیر و تفریح سے لطف اندوز ہونے کے لیے ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی بڑی تعداد میں وادی کاغان کا رخ کرتے ہیں۔ وادی کاغان سطح سمندر سے 25 سو میٹر بلند ہے۔ جون جولائی کے مہینوں میں جہاں وطن عزیز کے تمام شہروں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے اس گرمی کے موسم میں بھی وادی کاغان کا موسم ٹھنڈا رہتا ہے پہاڑوں کی چوٹیوں نے برف کی چادر اوڑھی ہوتی ہیں جو کہ پاکستان کے سب سے ٹھنڈے مقامات میں سے ایک ہے۔ وادی کاغان میں ہائیکنگ؛ ٹریک؛ مچھلی پکڑنے کے شوق رکھنے والوں کے لیے بہترین جگہ ہے۔ وادی کاغان میں رہائش کیلئے بڑے بڑے ہوٹل اور کھانے پینے کی تازہ اشیاء بھی موجود ہوتی ہیں۔ وادی کاغان کو جانے والی سڑک شاراہ کاغان کے نام سے جانی جاتی ہے۔ شاہراہ کاغان دل دہلا دینے والی ان سڑکوں میں شمار ہوتی ہے جس کے ایک طرف گہری کھائی میں بہنے والا دریائے کنہار اور دوسری طرف بلند وبالا پہاڑ ہیں۔ اس علاقہ میں زیادہ بولنے والی زبان ہندکو اور گوجری پشتو کہلاتی ہے قومی زبان اردو بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ وادی کاغان کی مشہور سوغات ٹراوٹ فش خشک میوہ جات خواتین کے لئے اؤن کی بنی شعلیں وادی کاغان میں بسنے والے ہزاروں افراد کا روزگار سیاحوں سے ہے۔ مچھلی کا شکار پالتو مال مویشی ان کا بہترین مشغلہ ہے اس علاقے میں بسنے والے لوگ زمیندار اور انتہائی محنتی ہیں۔ اور یہاں کی خواتین دستکاری میں بہترین مہارت رکھتی ہیں جو کہ ملک بھر میں مشہور ہیں۔ دور جدید میں بھی یہ علاقہ بہتر تعلیم کی سہولیات سے محروم ہے ہاں لیکن وادی کاغان کا بچہ بچہ اس علاقے کی تمام خوبصورت جگہوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے جو کہ ٹور گائیڈ کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ گرمیوں میں سیاحوں کی بہترین توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ وادی کاغان میں جگہ جگہ قدرتی پانی کے چشمے ٹھنڈی آب و ہوا بیاڑ کے گھنے جنگلات برف سے ڈھکی پہاڑوں کی چوٹیاں۔ پہاڑوں کے درمیان قدرتی بنی ہوئی جھیلیں دریائے کنار کا دلکش منظر۔ حیرت انگیز جنگلات جنت کا منظر پیش کرتے ہیں۔ وادی کاغان کے ساتھ منسلک تفریحی مقامات میں شوگران ناران بٹہ کنڈی ہیں جن جیل سیف الملوک آنسو جھیل جیل للوسر پت و دیگر جھیلیں بھی سیاحوں کے لئے دلچسپ مقام ہیں ہزارہ ڈویژن کے ان علاقوں میں سیرو تفریح کے لیے آنے والوں کو ایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔

Road Trip To Naran & Shogran

Background of Haripur

ہریپور کا پس منظر

ہری پور پرانا مشرقی گندھارہ کہلاتا تھا۔ سکندر یونانی کے دور میں جرنیل ہری سنگھ نلوہ جو کہ اس علاقہ کا گورنر بھی تھا جس نےاس مشرقی گندھارا میں 16 گز اونچی اور 4 گز چوڑی قلعہ نما دیواریں تعمیر کروائیں
اور 1821 اس علاقے کو آباد کرکے اس علاقے کا نام اپنے نام سے منسوب کرکے ہری پور رکھ دیا۔

Haripur

ہری پور

ہریپور کو جولائی 1992 میں ضلع کا درجہ دے کر ایبٹ آباد سے علحیدہ کر دیا گیا۔ ہریپور صوبہ خیبرپختونخوا اور ہزارہ ڈویژن میں پھاٹک کا درجہ رکھتا ہے جو کہ اسلام آباد سے 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اس کا کل رقبہ 1725 مربع کلومیٹر ہے جس کو دو تحصیلوں تحصیل ہریپور تحصیل غازی اور 45 یونین کونسلوں پر تقسیم کیا گیا ہے 2017 کی مردم شماری کے مطابق ہریپور کی ٹوٹل آبادی 1003031 افراد پر مشتمل ہے
ہری پور پاکستان کی آزادی سے پہلے ریاست عم کا حصہ تھا۔
ہری پور کو ڈیمو کا شہر بھی کہا جاتا ہے دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہے تربیلا ڈیم ہریپور واقع ہے ہری پور میں واقع پھتری ڈیم خانپور ڈیم خیربارہ ڈیم قابل ذکر ہیں۔ ہریپور صوبہ خیبر پختونخواہ کے سب سے بڑا صنعتی ضلع کا درجہ بھی رکھتا ہے۔ بڑے صنعتی یونٹس میں عطار انڈسٹری میں کئی چھوٹے بڑے کر خانوں سمیت ہزارہ فرٹیلائزرز پاک چائنا فرٹیلائزرز ٹیلیفون انڈسٹری آف پاکستان شامل ہیں۔ ان صنعتوں کی وجہ سے یہ ضلع ملکی معیشت ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہاں کا موسم گرم رہتا ہے. ہری پور میں تعلیم کی شرح 58 فیصد ہے ہری پور میں 1 یونیورسٹی 5 ڈگری کالج 1 پولی ٹیکنیکل کالج کئی سرکاری اور نجی ادارے موجود ہیں۔ اس علاقہ میں زیادہ تر بولی جانے والی زبان اردو ہندکو پشتو گجری ہیں۔ یہاں کا زیادہ تر پہنے جانے والا لباس شلوار قمیص ہے ہری پور میں بسنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش کاشتکاری ملازمت اور پالتو جانور پالنا ہے۔ 
اس علاقے کا مشہور کھیل نیزہ بازی ہے اور یہاں کے لوگ زیادہ تر گھوڑے پالنے کے بھی شوقین ہیں ۔ ہری پور میں سب سے زیادہ کاشتکاری کی جاتی ہے جس میں گندم اور مکئی کی فصلیں شامل ہیں۔ ہری پور میں کاشت کی جانے والی سبزیاں پشاور اور پنجاب بھر میں سپلائی کی جاتی ہیں۔ ہری پور میں بڑے پیمانے پر پھلوں کے باغات بھی موجود ہیں۔ ہری پور کی لوکاٹ ملک بھر میں سپلائی کی جاتی ہے جو اپنے ذائقہ کی وجہ سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ ہریپور کے شکری مالٹا اور بلڈ مالٹا پوری دنیا میں مشہور ہیں جو صرف ہریپور کی پیداوار ہیں۔ ہریپور میں پہاڑی اور میدانی علاقے موجود ہیں ہریالی بھرے کھیت جنگلات آبشاریں کاشتکاری کے لیے نہریں ہریپور کا حسن ہیں۔ ہری پور کی مشہور سیاسی سماجی شخصیات میں فیلڈ مارشل ایوب خان برصغیر کے مشہور شاعر قتیل شفائی گوہر ایوب خان فیصل زمان جہازا والا ان کے اپنے بحری جہاز ہیں جس کے باعث ان کو جہازوں والا بھی کہا جاتا ہے۔ مشہور گلوکارہ افشاں زیبی کا تعلق بھی ہری پور سے ہے۔

Backgound of Abbottabad

پس منظر ایبٹ آباد

ایبٹ آباد کا پس منظر بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے. 1818 میں رنجیت سنگھ نے اس علاقہ پر حملہ کیا جس میں اس کے ایک جرنیل کو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا 1821 میں اسکا دوسرا جرنیل امر سنگھ بھی مارا گیا۔ 1846 میں سکھوں اور انگریوں کے درمیان معائدہ کے بعد 1849 میں برطانوی حکومت آئی تب 1853 میں برطانوی میجر جمیز ایبٹ نے اس علاقے کو آباد کر کے اس کا نام ایبٹ آباد رکھا. میجر جیمز ایبٹ نے ایبٹ آباد میں ملٹری اکیڈمی کاکول سنٹر قائم کیا جو آج پاکستان کی سب سے بڑی ملٹری اکیڈمی کاکول ہے۔ میجر ایبٹ کی یہ خواہش تھی کے یہ علاقہ آباد ہو اور یہاں بازار ہو جس سے ملٹری اکیڈمی میں فوجیوں کو بازار سے خریداری کے لیے زیادہ دور نہ جانا پڑے اور وہ اسی بازار سے خریداری کریں۔ 1903 میں اس علاقے میں پہلا سکول قائم کیا گیا. اور 1911 میں پہلی ڈسپنسری قائم کی گئی میں۔ تحصیل ایبٹ آباد کے بعد دوسری بڑی تحصیل حویلیاں ہے، جو کہ بڑے تجارتی مراکز کے بعد قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن بھی اسی ضلع میں ہوا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کے دیرینہ دوستوں میں خان فقیرا خان مرحوم بھی ایبٹ آباد سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ رہے۔ پاک فوج کے جرنیل ایاز سلیم رانا بھی اسی شہر کے باسی ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹر یاسر حمید بھی اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالی ووڈ کے مشہور ایکٹر انوشکا مار کی پیدائش بھی اس ہی ضلع کی ہے۔ (مرحوم) ائیر مارشل اصغر خان بھی اسی شہر سے تعلق رکھتے تھے۔

Abbottabad

ایبٹ آباد

ایبٹ آباد معدنیات اور قدرتی حسن کے لحاظ سے خیبر پختونخواہ کا تیسرا بڑا ضلع ہے۔ 
ایبٹ آباد تعلیم کے حوالے سے اعلی مقام رکھتا ہے۔ایبٹ آباد کو سکولوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ ایبٹ آباد میں تعلیم کی شرح 71 فیصد ہے۔ ایبٹ آباد کا کل رقبہ 1800 کلومیٹر ہے یہ ضلع دو تحصیلوں ایبٹ آباد حویلیاں اور 51 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق ضلع ایبٹ آباد کی ٹوٹل آبادی 1332912 افراد پر مشتمل ہے۔ جو کہ سطح سمندر سے 1256 میٹر بلند ہے ایبٹ آباد شہر جو کہ پہاڑوں کے درمیان گھرا ہوا ہے یہ پہاڑی سلسلہ سربن کہلاتا ہے جس میں چیتے ریچھ سنہری عقاب بندر کشمیر کے پہاڑی لومڑ جنگلی کبوتر اس کے علاوہ 896 اقسام کے پرندے اس پہاڑی سلسلہ کی زینت ہیں۔ ایبٹ آباد کا شہر پیالہ نما ہے۔ ایبٹ آباد سیروسیاحت کے لیے بھی توجہ کا مرکز جانا جاتا ہے ایبٹ آباد میں سیر وسیاحت کے لیے بلند مشہور مقامات میں نتھیاگلی ایوبیہ ٹھنڈیانی جو کہ مری سے 8000 فٹ بلند ہیں۔ ایبٹ آباد کو اللہ تعالی نے قدرتی حسن اور معدنیات سے نوازا ہے معدنیات میں جپسم گرینائٹ ماربل فاس ریڈ شامل ہیں۔ قدرتی حسن میں جنگلات پانی کی ابشاریں میٹھا پانی سیروتفریح کے دلکش مقامات موجود ہیں۔ ایبٹ آباد میں الیاسی مسجد سیر و سیاحت کے لیے توجہ کا مرکز جانی جاتی ہے جس کا شمار ایبٹ آباد کی قدیم مساجد میں ہوتا ہے۔ الیاسی مسجد میں چشمہ کا پانی جو کہ ہاضمہ کے لئے مفید ترین ہے الیاسی مسجد کے پکوڑے ہزارہ ڈویژن سمیت ملک بھر میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ ایبٹ آباد شہر میں سب سے مشہور لیڈی گارڈن بہترین تفریحی پرسکون اور پرکشش مقام ہے۔ ایبٹ آباد میں واقع شملہ پہاڑی جو کہ ہائیکنگ کے لیے بہترین مقام ہے شملہ پہاڑی سے ایبٹ آباد شہر کا بہترین نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ٹھنڈیانی بھی سیر و سیاحت کے لیے توجہ کا مرکز ہے ٹھنڈیانی کی پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر سیر و تفریح کے لیے چیئر لفٹ بھی لگائی گئی ہے جو بچوں بوڑھوں خواتین کے لیے توجہ کا مرکز ہے۔ ہرنوئی میں بھی سیاہ ہوں کے لیے پکنک پوائنٹ موجود ہے ہرنوئی میں پہاڑوں کے درمیان سے گزرنے والا دریا اپنی خوبصورتی کی مثال آپ ہے جو کہ بہترین پکنک پوائنٹ میں شمار ہوتا ہے۔ ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں کے گاؤں سجیکوٹ میں 500 سال قدیم اور 200 فٹ بلند آبشار اپنی مثال آپ ہے جس کو دیکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں سیاح اس مقام پر آتے ہیں۔ ایبٹ آباد میں زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہیں جو ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں یہاں پر زیادہ تر بولی جانے والی زبانوں میں ہندکو اردو اور پشتو ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا زیادہ تر لباس قمیض شلوار ہے اس علاقے کے لوگ زیادہ تر بزنس مین اور ٹیچر ہیں۔ ہزارہ ڈویژن کے تمام بڑے دفاتر اسی شہر میں موجود ہیں۔ حویلیاں ریلوے اسٹیشن بھی تاریخی مقامات میں شامل ہے اور پاکستان کے آخری ریلوے اسٹیشن کا درجہ رکھتا ہے۔ سی پیک کی تکمیل کے بعد ایبٹ آباد حویلیاں انتہائی اہمیت کے حامل شہر ہونگے۔

Background of Mansehra

مانسہرہ کا پس منظر

گندارہ تہذیب کے مطالعہ سے مانسہرہ کا پرانا نام پکھلی سرکر ملتا ہے اس علاقے کو سکھ جرنیل مان سنگھ نے آباد کیا جس کے بعد اس علاقے کا نیا نام مانسہرہ رکھا اور اس پر حکومت کی۔ سکندر یونانی نے اس علاقے پر قبضہ کر کے اس علاقے کو راجہ ابسراص اف پہنچھ کے حوالے کردیا۔ اشوکہ جو کہ اس وقت گورنر تھا جس نے اپنے ہاتھوں سے کوہ بریری کی 4 پتھر کی چٹانوں پر ایتھیک مذہب کی عبارتیں لکھی ہیں جو آج بھی بٹ پل کے قریب اشوکہ پارک میں آثار قدیمہ کے طور پر موجود ہیں۔ اشوکہ جو کہ ہندو تھا جو کے بعد میں بدھ مت مذہب اختیار کر چکا تھا۔ سن 1399 میں مسلمانوں نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔ 1472 شہاب الدین نے اس علاقے پر اپنی حکومت قائم کی اور گلی باغ کو اپنا دارالخلافہ قائم کردیا۔ دور اکبری میں ترک سردار۔ سردار سلطان خان حسین نے بغاوت اعلان کر دیا جس کی بغاوت کو کچل دیا گیا۔ 1818 میں سکھوں نے اس علاقے پر قبضہ جمالیا۔ 1831 کے معرکہ میں دو عظیم مجاہد سید احمد اور سید اسماعیل شہید ہوئے۔ جن کی قبریں آج بھی بالاکوٹ میں موجود ہیں۔

Mansehra

مانسہرہ

اسلام آباد سے شمال کی جانب 120 کلومیٹر کوہ ہمالیہ کے نقطہ آغاز پر واقع دنیا کا سب سے زیادہ قدرتی حسین سے بھرا ہوا ضلع مانسہرہ ضلع مانسہرہ کے پی کے کا دوسرا بڑا ضلع بھی ہے۔ مانسہرہ کی تحصیل میونسپل کمیٹی کا شمار خیبرپختونخوا کی دوسری بڑی تحصیل میونسپل کمیٹی میں ہوتا ہے جس کی آمدن سب سے زیادہ ہے۔ مانسہرہ میں سب سے بڑا لاری اڈا ہے اس لاری اڈا سے ہر روز اندرون ملک پورے پاکستان کے لیے ٹرانسپورٹ دستیاب ہوتی ہے۔ ضلع مانسہرہ وہ جنت پذیر خطہ ہے جس کے تصور سے ہی دل میں ٹھنڈک کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلہ کے باعث پوری دنیا میں جانا گیا۔ اس قیامت خیز زلزلہ میں سب سے زیادہ نقصان مانسہرہ میں ہوا جس سے تحصیل بالاکوٹ صحفہ ہستی سے مٹ گئی لیکن قیامت خیز زلزلہ کے علاوہ بھی مانسہرہ جو اپنی منفرد تہذیب اور ثقافت سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ سال 2017 کی مردم شماری کے ضلع مانسہرہ کی ٹوٹل آبادی 1556460افراد پر مشتمل ہے۔ جو کہ ہزارہ ڈویژن کی سب سے زیادہ آبادی ہے ضلع مانسہرہ میں تعلیم کی شرح 75 فیصد ہے۔ ہزارہ ڈویژن کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہزارہ یونیورسٹی ڈهوڈیال مانسہرہ میں واقع ہے۔ ضلع مانسہرہ میں 6 ڈگری کالج 1 پولی ٹیکنیکل کالج 1 ایلیمنٹری کالج 1 کامرس کالج اور سینکڑوں کی تعداد میں سرکاری ونجی سکول کالج تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ ضلع مانسہرہ ko پانچ تحصیلوں جن میں تحصیل مانسہرہ تحصیل بالاکوٹ تحصیل تحصیل اوگی تحصیل دربند تحصیل بفہ شامل ہیں کو 59 یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ہے
مانسہرہ میں بہنے والے دریا جن میں دریائے کنار دریائے سندھ اور دریائے سرن شامل ہیں۔ مانسہرہ کی بلند چوٹیوں میں ناگاپربت راکاپوشی کوہ بریری بٹوارہ اور بابوسرٹاپ شامل ہیں بابوسرٹاپ سب سے بلند ترین مقام ہے۔ اللہ تعالی نے مانسہرہ کو بھی معدنیات سے نوازا ہے ان معدنیات میں جپسم گرینائٹ ماربل فاس ریڈ شامل ہیں۔ گرینائٹ کا شمار ان کی پتھروں میں ہوتا ہے جس کی مالیت 300 روپے فٹ ہے۔ اللہ تعالی نے ان معدنیات کے بڑے بڑے پہاڑوں سے مانسہرہ کو نوازا ہے ضلع مانسہرہ میں درجنوں قدرتی ایسے تفریحی مقامات ہیں جو دنیا بھر میں صفحہ اول پر ہیں۔ سب سے مشہور تفریحی مقامات وادی کاغان کے علاوہ مانسہرہ کے دیگر تفریحی مقامات پارس مانڈری جرید بالاکوٹ جابہ عطرشیشہ سنڈےسر۔ سرن ویلی میں شنکیاری منڈا گچہ جبوڑی موسی مصلہ۔کونشویلی میں بٹل چھترپلین پکھل ویلی میں خاکی بفہ ڈهویال علاقہ تناول میں پھلڑہ دربند اؤگی شیر گڑھ گلی باغ شامل ہیں۔مانسہرہ کی مشہور سوغات میں کچوری سموسہ تازہ مچھلی کباب کھوا دیسی گھی لسی وغیرہ شامل ہیں۔ مانسہرہ کی مشہور سیاسی سماجی مذہبی شخصیات میں شہزادہ گشتاسپ خان رہیس اعظم خان سردار محمد یوسف قاسم شاہ بابر سلیم سواتی صالح محمد خان شجاع سالم خان عرف (شازی خان) مفتی منیب الرحمن چیئرمین رویت ہلال کمیٹی شامل ہیں۔ مانسہرہ میں سب سے زیادہ سیروسیاحت کے تفریحی مقامات اور آثار قدیمہ موجود ہیں جن میں اشوکا کے ہاتھ کے لکھے پتھر کی چٹان مانسہرہ شوکا پارک بٹ پل کے قریب آثار قدیمہ کے طور پر آج بھی موجود ہیں ہندوؤں کا مندر شفٹیمپل آج بھی مانسہرہ گاندھیاں کے مقام پر موجود ہے۔ رنجیت سنگھ کے دور میں تعمیر ہونے والا تمثال جوکہ میٹنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا آج بھی گھڑی روڈ پر موجود ہے۔

Batgram Tours

بٹگرام کی سیر

ہزارہ ڈویژن میں سیر و سیاحت کے مقامات میں سے بٹگرام بھی کسی سے کم نہیں اپنے اندر حسین قدرتی مناظر کو چھپائے ضلع بٹگرام حکومت کی توجہ چاہتا ہے بڑے بڑے پہاڑ قدرتی آبشاریں ٹھنڈا اور میٹھا پانی دریا کی موجیں سیاحوں کی توجہ کے لئے منتظر ہے۔ ضلع بٹگرام کی ٹوٹل آبادی 476612 افراد پر مشتمل ہے جس کا کل رقبہ 1301 کلومیٹر ہے جو کہ سطح سمندر سے 3406 فٹ بلند ہے. اس علاقہ میں تعلیم کی شرح 42 فیصد ہے بٹگرام میں زیادہ تر بولی جانے والی زبان پشتو اور اردو ہے یہ علاقہ ٹھنڈے علاقوں میں شمار ہوتا ہے دور جدید میں بھی یہ علاقہ پسماندگی سے دوچار ہے حکومت اور منتخب نمائندگان کی عدم دلچسپی کے باعث اس علاقہ میں سیر و سیاحت کے لیے آنے والے سیاحوں کی تعداد کم ہے۔ ان اونچے اور گھنے جنگلات میں اگر چیرلیفٹ لگا دی جائے تو بٹگرام مری نتھیا گلی ناران اور مالم جبہ سے کم نہیں یہاں کی سڑکوں کا نظام بہتر نہیں جس کی وجہ سے یہاں کے مقامی لوگوں کو تکلیف کا سامنا ہے۔

District Uper Kohistan & Lower Kohistan

ضلع اپرکوہستان اور لوئر کوہستان

ضلع اپرکوہستان اور لوئر کوہستان بھی کسی خوبصورت ترین مناظر سے کم نہیں اپرکوہستان لوءر کوہستان کی بھی داستان بٹگرام ہی کے جیسی ہے ضلع اپرکوہستان کی آبادی 306337 افراد پر مشتمل ہے۔ جبکہ ضلع لوہر کوہستان کی آبادی 202913افراد پر مشتمل ہے ان علاقوں میں میں زیادہ بولی جانے والی زبان کوہستانی ہے اردو اور پشتو میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ان علاقوں میں تعلیم کی شرح 35 فیصد ہے جو کہ دور جدید میں لمحہ فکریہ ہے حکومت وقت اور منتخب نمائندگان کو اس علاقہ پر توجہ کی ضرورت ہے

Kala Dhaka

کالا ڈھاکہ

ضلع تورغر کی ٹوٹل آبادی171395 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا کل رقبہ 497 کلومیٹر ہے جدبہ کالاڈاکہ کا کیپیٹل ہے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آصف علی زرداری نے اس علاقہ کو ضلع کا درجہ دے دیا لیکن آج بھی یہ علاقہ پسماندگی سے دوچار ہے اس علاقہ میں اگر سفر کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سن سکرت کے دور میں آگئے ہیں کالاڈھاکہ میں تعلیم کی شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے اس بات کا اندازہ اس علاقہ کی تعلیم کی شرح سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ علاقہ کتنی پسماندگی کا شکار ہے۔ اس علاقہ کے لوگ اپنی منفرد تہذیب کے حامل ہیں اس علاقہ کے لوگ انتہائی محنت کرنے والے ہیں جو کہ پسماندگی میں بھی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply